8 دسمبر، 2008، 8:19 PM

حسن قشقاوی

پرامن ایٹمی پروگرام جاری رہےگا // مغربی ممالک آزادی بیان کا احترام کرنے کے لئے مشق و تمرین کریں

پرامن ایٹمی پروگرام جاری رہےگا // مغربی ممالک آزادی بیان کا احترام کرنے کے لئے مشق و تمرین کریں

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان قشقاوی نے امریکہ کے نو منتخب صدر کے اظہارات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے نئے صدر امریکی عوام سے چینج اور تبدیلی کے سلسلے میں کئے گئے وعدے منحرف ہورہے ہیں جبکہ اسے بش کی طرح تقابل نہیں بلکہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابقایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسن قشقاوی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر کے اظہارات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے نئے صدر امریکی عوام سے چینج اور تبدیلی کے سلسلے میں کئے گئے وعدے منحرف ہورہے ہیں جبکہ اسے بش کی طرح تقابل نہیں بلکہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ  

ایران اپنا جوہری پروگرام ختم نہیں کرے گا اور اس حوالے سے تنازعے کے حل کیلئے امریکہ کو اپنی گاجر اور چھڑی کی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے پرانے موقف کے مطابق ان کی حکومت سے یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کرے گا تو اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔حسن قشقاوی نے یہ بات منتخب امریکی صدر بارک ابامہ کے بیان کے ردِعمل کے طور پر کہی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کو جوہری پروگرام ختم کرنے کے عوض معاشی مراعات دی جائیں گی بصورتِ دیگر اس پر پابندیاں سخت کردی جائیں گی۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ نئے امریکی صدر کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تشویش دور کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے اور جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے اس کے حق کو تسلیم کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بارک ابامہ کو بش انتظامیہ کی گاجر اور چھڑی کی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اوراسے امریکی عوام سے تبدیلی اور چینج کے وعدے کو پورا کرنا جاہیے اور منصب سنبھالنے کے بعدبش کی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔

 

News ID 797578

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha